سوچتا ہوں دِل کی بات کس طرح بتاوؑں

In this heart-warming expression of a son’s love for his mother, Shaheryar Ahmed, a student of Civil Engineering at the University of Alberta, Canada, and passionate singer, shares with us the sentiments and ever-lasting nature of a bond that is beyond the reach of words, yet he captures it beautifully.

سوچتا ہوں دل کی بات کِس طرح بتاوؑں
یہ وہ رشتا ہے جس کو بیاں کرنے کے لیےؑ الفاظ بھی گونگے ہو جاتے ہیں ماں

میری سب سے پہلی محبت، میری زندگی ہے تو
وہ کویؑ شب نہیں جب تجھے یاد نہ کروں ماں

یاد بھی تھوڑا یا زیادہ کیا جاتا ہے
کویؑ حد ہو تو زکر کروں میں تجھے کِتنا یاد کرتا ہوں ماں

میں اسکول سے کبھی جب خوشگوار دن کے بعد آتا یا کبھی مایوس ہو کر آتا
یہ کیسا عجب معجزہ ہے تیری آنکھوں میں کہ سمجھ جاتی تھی میری کیفیت کو میری آنکھوں میں دیکھ کر ماں

لوگ سکون و راحت کو مال و دولت سے نہ جانے کس طرح تولتے ہیں
تمام دنیا کی دولت بھی کیا چیز ہے، جو سکون ملتا ہے تیری گود میں سَر رکھنے سے ماں

خوشیاں تو بڑی دیکھی ہیں رب کے احسان سے
پر وہ خوشی پھر کبھی محسوس ہی نہیں کی جو بچپن میں تیرے گھر آنے پر ہوتی تھی ماں

بے وفا دنیا ہے مطلب کے ہیں لوگ
یہ تیری دعاوؑں کا ہی تو نتیجہ ہے کہ خوش رہتا ہوں میں ماں

خدا احد ہے، جس کی کویؑ مثال نہیں
حقیقت تو یہ ہے کہ تیری تشبیح و مثال بھی تو خود ہے ماں

کہتے ہیں انسان کو سب سے پہلے اپنی زات کی فکر ہوتی ہے پر
تو وہ کمال ہے جس نے کبھی کھانا نہ کھایا میرا پیٹ بھرنے سے پہلے ماں

سوچتا ہوں دِل کی بات کس طرح بتاوؑں
یہ وہ رشتا ہے جس کو بیاں کرنے کے لیےؑ الفاظ بھی گونگے ہو جاتے ہیں ماں

alberta.jpg

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s